MOJ E SUKHAN

لوگو یہ عجیب سانحہ ہے

غزل

لوگو یہ عجیب سانحہ ہے
مجھ میں کوئی قتل ہو رہا ہے

کس کی ہے تلاش کیا بتائیں
اپنا ہی وجود کھو گیا ہے

سوئیں گے ازل میں جا کے ہم سب
دنیا تو عظیم رت جگا ہے

سچ کو ہے دوام اس جہاں میں
مجھ سے تو یہی کہا گیا ہے

مرنا ہے یہاں بہت غنیمت
جینا تو محال ہو چکا ہے

دے گا وہ ضرور سنگ مجھ کو
جس نے تجھے آئنہ کیا ہے

آئی ہے طویل ہجر کی شب
یہ دل سر شام جل گیا ہے

صابر وسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم