MOJ E SUKHAN

لڑکیاں ماؤں جیسے مقدر کیوں رکھتی ہیں

غزل

لڑکیاں ماؤں جیسے مقدر کیوں رکھتی ہیں
تن صحرا اور آنکھ سمندر کیوں رکھتی ہیں

عورتیں اپنے دکھ کی وراثت کس کو دیں گی
صندوقوں میں بند یہ زیور کیوں رکھتی ہیں

وہ جو آپ ہی پوجی جانے کے لائق تھیں
چمپا سی پوروں میں پتھر کیوں رکھتی ہیں

وہ جو رہی ہیں خالی پیٹ اور ننگے پاؤں
بچا بچا کر سر کی چادر کیوں رکھتی ہیں

بند حویلی میں جو سانحے ہو جاتے ہیں
ان کی خبر دیواریں اکثر کیوں رکھتی ہیں

صبح وصال کی کرنیں ہم سے پوچھ رہی ہیں
راتیں اپنے ہاتھ میں خنجر کیوں رکھتی ہیں

عشرت آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم