Lay gaya jaan mri wasl ka Lapka Koi
غزل
لے گیا جان مری وصل کا لپكا کوئی
دل کی دھڑکن میں ہوا لمحے کاوقفہ کوئی
عشق کی عین گواہی دے کبھی دیکھا ہے
دل کی دیواروں پہ دنیا کا ہو نقشہ کوئی
یونہی کیوں روتے بلا وجہ پریمی سارے
درد کا پیار سے ہوتا ہے نا رشتہ کوئی
آپ سے پوچھ رہی ہوں کہ بتا دیں للّه
آپ کے دل کی طرف جاتا ہے رستہ کوئی
مری آنکھوں کے کنارے بھی سلامت نہ رہے
میرے اندر سے امڈ آیا تھا دریا کوئی
اب نہیں رسم سخن ان سے ہماری جاری
اب نہیں دل کے اجڑنے کا بھی خطرہ کوئی
کسی بیوہ کو ملے جیسے جواں لال کا غم
شور سا ہونے لگا دل میں یوں برپا کوئی
زرد پتوں کی زبانوں پہ ہے فریاد ابھی
خشک پھولوں پہ نہیں شبنمی قطرہ کوئی
اپنے دلدار کے ملبوس کا دھاگہ بٹ دوں
چاند کی بڑھیا سے لا دےمجھےچرخہ کوئی
کاش وہ ہاتھ نظر آتا سبھی کو عالی
کاش دیوار کا پڑھ سکتا نوشتہ کوئی
شائستہ کنول عالی
Shaista Kanwal Aali