MOJ E SUKHAN

مجبوریوں میں بک گئے کچھ مفلسوں کے تن

مجبوریوں میں بک گئے کچھ مفلسوں کے تن
ان کو ہوس نے لوٹ لیا ڈال کر کفن

مجبور کرنے والوں پہ کوئی سزا نہ تھی
مجبورِ حال نے ہی کیا جرم بھی سہن

بچوں کی بھوک جن کو جگائے تمام رات
آنکھوں میں ایسی ماؤں کے کیسے نہ ہو تھکن

کی جس نے خالی پیٹ مشقت تمام دن
ماتھے پہ اس کے روشنی بن جاتی ہے شکن

چلتے رہے تو موت بچاتی رہی نظر
جب تھک گئے تو لُوٹ گئی ہم کو راہزن

یہ رونقیں ، یہ شوخیاں ، رنگینیاں ، ہنسی
پردے میں ان کے رازؔ چھپایا اداس من

رازداں راز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم