مجھے عشق میں بےوفائی نہ دے
مرے پیار کو تو جدائی نہ دے
خدایا عطا کر سہاگن کا جوڑا
تو بے رنگ رنگِ حنائی نہ دے
غریبوں کی بیٹی کا تو ہی محافظ
کسی باپ کو جگ ہنسائی نہ دے
مرا غم ہے سارے جہاں میں نمایاں
تجھے دیدہ ور کیوں دکھائی نہ دے
مرا ہم سفر بن مرے ساتھ چل
مجھے بے وجہ کی صفائی نہ دے
خیالوں کا ہے یہ عجب قیدخانہ
تری یاد سے جو رہائی نہ دے
جسے دیکھو سب کے ہیں اپنے پرائے
مجھے کوئی اپنا دکھائی نہ دے
ملاقات کی گر تمنا ہے دل میں
مجھے فاصلوں کی دہائی نہ دے
مرے ہاتھ میں چوڑیاں ہوں صنم کی
مجھے مولا سونی کلائی نہ دے
لہو کا ترے رنگ بدلا ہوا ہے
تو الزام مجھ کو اے بھائی نہ دے
مرے سر پہ چادر رہی ہے حیا کی
تو تہذیب کی اب دہائی نہ دے
جو شہناز کا بن سکے نہ محافظ
وہ بیٹا وہ شوہر وہ بھائی نہ دے
شہناز رحمت