MOJ E SUKHAN

محبت کا کسی کے دل میں اک ارمان پیدا کر

غزل

محبت کا کسی کے دل میں اک ارمان پیدا کر
خدایا اس سے ملنے کا کوئی سامان پیدا کر

جو انگلستان کی سی برتری اے ہند چاہے تو
ملا کر اپنے فرقوں کو یہ عز و شان پیدا کر

ترے نالوں سے ڈر کر چھوڑ دے صیاد نا ممکن
مگر ہاں دیدۂ تر سے کوئی طوفان پیدا کر

مصائب سے قفس کے طاقت پرواز کب تجھ کو
تو پہلے اپنے اڑنے کا کوئی سامان پیدا کر

بتوں کی یاد میں سودائے سر سے پاک ہو جاؤں
نشہ ایسا مرے سر میں مئے عرفان پیدا کر

وہ بھولے پن سے دے دے بوسۂ لعل لب شیریں
کوئی ترکیب ایسی اے دل نادان پیدا کر

رموز عاشقی تو ساتویں منزل ہے درماں کی
ابھی تو ابجد معنی سے تو پہچان پیدا کر

بلندی اور پستی کی ہمیں کیا تو سناتا ہے
کسی سے تو بھی اے ناصح ذرا ایمان پیدا کر

سنے نالہ اگر میرا نہ ہرگز جور پھر ڈھائے
الٰہی اب تو پیر آسماں کے کان پیدا کر

ابھی تو پہلی منزل ہے رہ مقصود کی شیداؔ
سنبھل کر چل ذرا ہشیار ہو اوسان پیدا کر

عبدالمجید خواجہ شیدا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم