MOJ E SUKHAN

مرے دماغ پہ آسیب کا اثر تو نہیں

غزل

مرے دماغ پہ آسیب کا اثر تو نہیں
گماں گزرتا ہے یہ دشت میرا گھر تو نہیں

پلٹنے والے پرندوں پہ بد حواسی ہے
میں اس زمیں کا کہیں آخری شجر تو نہیں

بلند ہوتے ہوئے دیکھ لے زمیں کی طرف
کہ تیرے پاؤں کے نیچے کسی کا سر تو نہیں

کسی کے حق میں میں جھوٹی گواہی کیوں دے دوں
کوئی بھی ہو میرے لفظوں سے معتبر تو نہیں

پہاڑ پیڑ ندی ساتھ دے رہے ہیں مرا
یہ تیری اور مرا آخری سفر تو نہیں

عجیب شور سا اٹھتا ہے میرے سینہ میں
میرے علاوہ کوئی اور نوحہ گر تو نہیں

قمر عباس قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم