MOJ E SUKHAN

مرے پہلو سے جو نکلے وہ مری جاں ہو کر

مرے پہلو سے جو نکلے وہ مری جاں ہو کر
رہ گیا شوق دل زار میں ارماں ہو کر

زیست دو روزہ ہے ہنس کھیل کے کاٹو اس کو
گل نے یہ راز بتایا مجھے خنداں ہو کر

اشک شادی ہے یہ کچھ مثدہ صبا لائی ہے
شبنم آلودہ ہوا پھول جو خنداں ہو کر

ذرہٗ وادئ الفت پہ مناسب ہے نگاہ
فلک حسن پہ خورشید درخشاں ہو کر

شوخیاں اس نگہ زیر مثہ کی مت پوچھ
دل عاشق میں کھبی ہے پیکاں ہو کر

شدت شوق شہادت کا کہوں کیا عالم
تیغ قاتل پڑی سر پہ مرے احساں ہو کر

اب تو وہ خبط مرے عشق کو کہہ کر دیکھیں
خود ہی آئینے کو تکنے لگے حیراں ہو کر

غلام بھیک نیرنگ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم