MOJ E SUKHAN

مشہور ہے جہاں میں اگرچہ جفائے گل

غزل

مشہور ہے جہاں میں اگرچہ جفائے گل
سو جانیں ہوں تو کیجیے اس پر فدائے گل

جاتا ہے مثل بو کے یہ دل اڑا ہوا
کیوں کر بھلا نہ ہوں میں کہو مبتلائے گل

سرسبز گل کی رکھے خدا ہر روش بہار
اے باغباں نصیب ہو تجھ کو بلائے گل

گلزار اس کے داغ سے سینہ مرا ہوا
کہو مرے مزار پر کوئی نہ لائے گل

اس بلبل اسیر کی حسرت پہ داغ ہوں
مر ہی گئی قفس میں سنی جب صدائے گل

گلچیں و باغباں کو کہاں اس کی قدر ہے
بلبل کے دل سے پوچھئے جس وقت آئے گل

کچھ آرزو سے کام نہیں عشقؔ کو صبا
منظور اس کو ہے وہی جو ہو رضائے گل

خواجہ رکن الدین عشق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم