MOJ E SUKHAN

مل بھی جاتے ہیں تو کترا کے نکل جاتے ہیں

مل بھی جاتے ہیں تو کترا کے نکل جاتے ہیں
ہائے موسم کی طرح دوست بدل جاتے ہیں

ہم ابھی تک ہیں گرفتار محبت یارو
ٹھوکریں کھا کے سنا تھا کہ سنبھل جاتے ہیں

وہ کبھی اپنی جفا پر نہ ہوا شرمندہ
ہم سمجھتے رہے پتھر بھی پگھل جاتے ہیں

عمر بھر جن کی وفاؤں پہ بھروسہ کیجے
وقت پڑنے پہ وہی لوگ بدل جاتے ہیں

اس تغافل پہ یہ عالم کہ ہر اک محفل سے
وہ بھی گاتے ہوئے والیؔ کی غزل جاتے ہیں

والی آسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم