MOJ E SUKHAN

ملا تو دہر میں وہ کام کر گیا اک شخص

ملا تو دہر میں وہ کام کر گیا اک شخص
کہ میرے بخت کو سر تاج کر گیا اک شخص

رقیب جس کسی سر تال میں کرے ہے رقص
مری تو ذات کی تکمیل کر گیا اک شخص

تماشہ دیکھنے والوں رہے گی تم کو حرص
کہ کون ہے کہاں سے آیا کب گیا اک شخص

وفا تو ہے مرے اجداد کی پرانی وصف
حیات عشق سے رنگین کر گیا اک شخص

ارم کی پھر وہی دستار ہے بلا تخصیص
جنوں جو عشق کا ہر بار دے گیا اک شخص

ارم ایوب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم