MOJ E SUKHAN

ملا کر خاک میں پھر خاک کو برباد کرتے ہیں

غزل

ملا کر خاک میں پھر خاک کو برباد کرتے ہیں
غریبوں پر ستم کیا کیا ستم ایجاد کرتے ہیں

ہزاروں دل جلا کر غیر کا دل شاد کرتے ہیں
مٹا کر سیکڑوں شہر ایک گھر آباد کرتے ہیں

موذن کو بھی وہ سنتے نہیں ناقوس تو کیا ہے
عبث شیخ و برہمن ہر طرف فریاد کرتے ہیں

حسینوں کی محبت کا نہ کر کچھ اعتبار اے دل
یہ ظالم کس کے ہوتے ہیں یہ کس کو یاد کرتے ہیں

وہی شاگرد پھر ہو جاتے ہیں استاد اے جوہرؔ
جو اپنے جان و دل سے خدمت استاد کرتے ہیں

لالا مادھو رام جوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم