ملے تو کاش مرا ہاتھ تھام کر لے جائے
وہ اپنے گھر نہ سہی مجھ کو میرے گھر لے جائے
۔
بتان شہر تمہارے لرزتے ہاتھوں میں
کوئی تو سنگ ہو ایسا کہ میرا سر لے جائے
۔
دیا کروں گا یوں ہی تیرے نام کی دستک
مرا نصیب مجھے لاکھ در بدر لے جائے
۔
وہ آدمی ہو کہ خوشبو بہت ہی رسوا ہے
ہوائے شہر جسے اپنے دوش پر لے جائے
۔
مرے قریب سے گزرے تو اہل دل بولے
اٹھا کے کون پرندہ لہو میں تر لے جائے
۔
پلٹ کے آئے تو شاید نہ کچھ دکھائی دے
وہ جا رہا ہے تو عاصمؔ مری نظر لے جائے
لیاقت علی عاصم