غزل
منزل دکھائی دے نہ کوئی راستہ مجھے
لے آئے ہیں کہاں پہ مرے رہنما مجھے
اے وقت پھر سے دینا ذرا آئنہ مجھے
حیرت سے تک رہا ہے جہان وفا مجھے
شکوہ رہا کسی سے نہ کوئی گلہ مجھے
تم مل گئے تو سارا جہاں مل گیا مجھے
میں سو چلا تھا اپنے تکبر کی چھاؤں میں
اچھا ہوا جو آپ نے چونکا دیا مجھے
کیسے کروں میں دل سے جدا اب متاع غم
لے دے کے اک اسی کا تو ہے آسرا مجھے
دنیا میں ہر قدم پہ نگاہوں کی بھیڑ تھی
رہ رہ کے یاد آیا ترا دیکھنا مجھے
اک پیار کی نظر سے یوںہی دیکھ کر کنولؔ
پھر غم سے کر گیا ہے کوئی آشنا مجھے
ڈی راج کنول