MOJ E SUKHAN

منزل دکھائی دے نہ کوئی راستہ مجھے

غزل

منزل دکھائی دے نہ کوئی راستہ مجھے
لے آئے ہیں کہاں پہ مرے رہنما مجھے

اے وقت پھر سے دینا ذرا آئنہ مجھے
حیرت سے تک رہا ہے جہان وفا مجھے

شکوہ رہا کسی سے نہ کوئی گلہ مجھے
تم مل گئے تو سارا جہاں مل گیا مجھے

میں سو چلا تھا اپنے تکبر کی چھاؤں میں
اچھا ہوا جو آپ نے چونکا دیا مجھے

کیسے کروں میں دل سے جدا اب متاع غم
لے دے کے اک اسی کا تو ہے آسرا مجھے

دنیا میں ہر قدم پہ نگاہوں کی بھیڑ تھی
رہ رہ کے یاد آیا ترا دیکھنا مجھے

اک پیار کی نظر سے یوںہی دیکھ کر کنولؔ
پھر غم سے کر گیا ہے کوئی آشنا مجھے

ڈی راج کنول

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم