MOJ E SUKHAN

منصف وقت سے بیگانہ گزرنا ہوگا

منصف وقت سے بیگانہ گزرنا ہوگا
فیصلہ اپنا ہمیں آپ ہی کرنا ہوگا

زخم احساس کبھی چین نہ لینے دے گا
سر میدان تمنا ہمیں مرنا ہوگا

تجھے چھو کر بھی تجھے پا نہ سکیں گے تو ہمیں
صورت درد ترے دل میں اترنا ہوگا

جانے لے آئی کہاں تیزئ رفتار ہمیں
کہ ٹھہر جائیں تو صدیوں کا ٹھہرنا ہوگا

عصر حاضر میں ہے جینا ہی جہاد اکبر
جس کی خاطر ہمیں ہر شے سے گزرنا ہوگا

حشر سے کم نہ کسی دن کے جھمیلے ہوں گے
اک قیامت ہمیں ہر شب کا گزرنا ہوگا

روئیں کیا ڈوبتے سورج کے لیے ہم روحیؔ
کہ نئی شان سے کل اس کو ابھرنا ہوگا

روحی کنجاہی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم