MOJ E SUKHAN

موجۂ عمر گریزاں کی روانی جیسا

غزل

موجۂ عمر گریزاں کی روانی جیسا
آنکھ میں کچھ تو ہے ٹھہرے ہوئے پانی جیسا

زرد پڑتے ہوئے پھولوں میں دھنک کی ترتیب
زندگی میں یہ عجب موڑ کہانی جیسا

اس طرح چھلکے ترے ہونٹ کہ وقت رخصت
رہ گیا کچھ مرے ماتھے پہ نشانی جیسا

میں نے کل رات ترے دل میں چمکتے دیکھا
ایک پیکر مری بھرپور جوانی جیسا

میں تری شاخ تحیر پہ مہکتا ہوا پھول
تو مرے خواب محبت کے معانی جیسا

اس کے چھونے سے ہوا قوس قزح میں تبدیل
تھا جو اک رنگ مری روح میں دھانی جیسا

وصل آہنگ ہوا جاتا ہے کچھ روز سے پھر
میرا اسلوب سخن ہجر بیانی جیسا

صائمہ زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم