MOJ E SUKHAN

مکان دل سے جو اٹھتا تھا وہ دھواں بھی گیا

مکان دل سے جو اٹھتا تھا وہ دھواں بھی گیا
بجھی جو آتش جاں زیست کا نشاں بھی گیا

بہت پناہ تھی اس گھر کی چھت کے سائے میں
وہاں سے نکلے تو پھر سر سے آسماں بھی گیا

بڑھا کچھ اور تجسس جلا کچھ اور بھی ذہن
حقیقتوں کے تعاقب میں میں جہاں بھی گیا

رہے نہ ساتھ جو پچھتاوے بھی تو رنج ہوا
کہ حاصل سفر عمر رائیگاں بھی گیا

بچے ہوئے تھے تو ایک ایک لمحہ گنتے تھے
بکھر گئے تو پھر اندازۂ زماں بھی گیا

نشان تک نہ رہا اپنے غرق ہونے کا
دکھائی دیتا تھا جو اب وہ بادباں بھی گیا

بھرا تھا دامن خواہش تو حشر برپا تھا
ہوا تہی تو پھر آوازۂ سگاں بھی گیا

اب اس اداس حویلی سے اپنا کیا رشتہ
مکیں کے ساتھ ہمارے لیے مکاں بھی گیا

بساط دہر پہ شہ مات ہو گئی ہم کو
ریاضؔ وہ بھی نہ ہاتھ آیا نقد جاں بھی گیا

ریاض مجید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم