میرا ہے اِک چھوٹا بھائی
کرتا ہے وہ مجھ سے لڑائی
میری کوئی بات نہ مانے
کرتا ہے وہ بڑے بہانے
پا پا آفس جب جاتے ہیں
اس کے دوست چلے آتے ہیں
کرتے ہیں وہ دھوم دھڑکا
شور مچاتا ہے ہر لڑکا
کرتے ہیں وہ خوب ہنگامہ
ڈانٹتی ہیں پھر اُن کو ماما
ڈانٹ وہ سُن کےڈرجاتے ہیں
لوٹ کے اپنے گھر جاتے ہیں
ہوتا ہے یہ روز تماشہ
بدلہ نہیں وہ ایک بھی ماشہ
پڑھنے سے وہ جی ہے چراتا
سب کو ہے دن رات ستاتا
سب نے اِک دن ذہن لڑایا
اُس کو بھی اسکول بٹھایا
اب وہ سارا دن ہے پڑھتا
مجھ سے بھی کم کم ہی لڑتا
پڑھ لکھ کر وہ کام کرے گا
ملک کا روشن نام کرے گا
شمیم چودھری