MOJ E SUKHAN

میری آنکھوں میں جو نم ہے کم ہے – Meri Ankhon main jo nam hai kam hai

میری آنکھوں میں جو نم ہے کم ہے
بس یہی حاصلِ غم ہے کم ہے

میں نہیں بھولا تری یاد کوئی
دل پہ ہر بات رقم ہے کم ہے

اس سے مر سکتی نہیں سچائی
ایک ہی پیالہ جو سَم ہے کم ہے

مت قسم کھا تو قسم سے یہ قسم
پہلے کھائی جو قسم ہے کم ہے

اب تری یاد میں چیخیں الفاظ
یہ فسردہ جو قلم ہے کم ہے

تو نے انؔور سے ہی چھینا انؔور
کیا یہ تیرا جو سِتَم ہے کم ہے

انور ضیا مشتاق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم