MOJ E SUKHAN

میرے پاس تم ہو

بھول جانے کا ہنر مجھ کو سکھاتے جائو
جا رہے ہو تو سبھی نقش مٹاتے جائو
چلو رسماً ہی سہی مڑ کر مجھے دیکھ تو لو
توڑتے توڑتے تعلق کو نبھاتے جائو

کبھی کبھی یہ مجھے ستائے
کبھی کبھی یہ رُلائے
فقط میرے دل سے اترجائیے گا
بچھڑنا مبارک بچھڑ جائیے گا
میں سمجھا تھا تم ہو، تو کیا اور مانگوں؟
میری زندگی میں میری آس تم ہو
یہ دنیا نہیں ہے میرے پاس تو کیا؟
میرا یہ بھرم تھا میرے پاس تم ہو
مگر تم سے سیکھا، محبت بھی ہو تو
دغا کیجیے گا مُکرجائیے گا

تیرا ہاتھ کل تک میرے ہاتھ میں تھا
تیرا دل دھڑکتا تھا دل میں ہمارے
یہ مخمور آنکھیں جو بدلی ہوئی ہیں
کبھی ہم نے ان کے ہیں صدقے اتارے
کہیں اب ملاقات ہوجائے ہم سے
بچاکر نظر کو گذر جائیے گا
جینا ہے ، تیرے بنا!
جینا ہے اب مجھ کو تیرے بنا۔۔

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم