MOJ E SUKHAN

میرے ہونٹوں پہ مہر چپ کی لگادی جائے

میرے ہونٹوں پہ مہر چپ کی لگادی جائے
مجھ کو حق گوئی کی ایسی نہ سزا دی جائے

روشنی کم ہی سہی ،گھور اندھیرے سے مگر
کیا یہ بہتر نہیں اک شمع جلادی جائے

کرکے مسمار غریبوں کے جھونپڑے جو بنیں
ایسے محلات کو تو آ گ لگادی جائے

ڈس رہے ہیں کیوں محبت کو ناگ نفرت کے
ایسے شعلوں کو نہ اب اور ہوا دی جائے

اوڑھے پھرتے ہیں لبادہ جو پارسائی کا
اصلیت ان کی زمانے کو دکھا دی جائے

فرش کا خود کو سمجھتے ہیں جو خدا روبی
ان کی اوقات ذرا ان کو بتادی جائے

روبینہ ممتاز روبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم