MOJ E SUKHAN

میں تیرگی سے گزرتا ہوں روشنی کی طرح

غزل

میں تیرگی سے گزرتا ہوں روشنی کی طرح
مجھے شعور ہے جینے کا آدمی کی طرح

یہی ادا تھی یہی ناز تھا یہی شوخی
اک اور شخص بھی دیکھا تھا آپ ہی کی طرح

میں ان سے محو تکلم وہ مجھ سے گرم سخن
میں زندگی سے مخاطب ہوں زندگی کی طرح

خطا معاف یہ ملنا بھی کوئی ملنا ہے
تم اپنے ہو کے بھی ملتے ہو اجنبی کی طرح

ترا جمال ہے آئینہ دار ذات و صفات
ترا خیال ہے سورج کی روشنی کی طرح

کسی کی یاد کی خوشبو ہے مثل بوئے چمن
کسی کی زلف کا سایہ ہے چاندنی کی طرح

مری حیات مری کائنات کے مالک
میں چاہتا ہوں تجھے اپنی زندگی کی طرح

بدن مہک اٹھے خوشبوئے یار سے جوہرؔ
اگر حیات ہو پھولوں کی تازگی کی طرح

چندر پرکاش جوہر بجنوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم