MOJ E SUKHAN

میں پھول پھول سفر کر رہی تھی خوابوں کا

غزل

میں پھول پھول سفر کر رہی تھی خوابوں کا
پھوار لائی تھی تحفہ نئے گلابوں کا

ملے تو قرب کا وہ اعتماد ہی نہ رہا
بھلا تھا اس سے تو موسم وہی حجابوں کا

وہ زخم چن کے مرے خار مجھ میں چھوڑ گیا
کہ اس کو شوق تھا بے انتہا گلابوں کا

وہ جنگلوں سے نکالے ہوئے غریب پرند
جہاں گئے انہیں مسکن ملا عقابوں کا

ہر ایک پوچھتا پھرتا ہے پھر نہ کچھ تعبیر
کہ جیسے شہر میں میلا تھا رات خوابوں کا

میں جو بھی کچھ ہوں یہ سچائی میری اپنی ہے
تمام جھوٹ تھا لکھا ہوا کتابوں کا

عشرت آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم