MOJ E SUKHAN

میں کچھ دنوں میں اسے چھوڑ جانے والا تھا

غزل

میں کچھ دنوں میں اسے چھوڑ جانے والا تھا
جہاز غرق ہوا جو خزانے والا تھا

گلوں سے بوئے شکست اٹھ رہی ہے نغمہ گرو
یہیں کہیں کوئی کوزے بنانے والا تھا

عجیب حال تھا اس دشت کا میں آیا تو
نہ خاک تھی نہ کوئی خاک اڑانے والا تھا

تمام دوست الاؤ کے گرد جمع تھے اور
ہر ایک اپنی کہانی سنانے والا تھا

کہانی جس میں یہ دنیا نئی تھی اچھی تھی
اور اس پہ وقت برا وقت آنے والا تھا

بس ایک خواب کی دوری پہ تھا وہ شہر جہاں
میں اپنے نام کا سکہ چلانے والا تھا

شجر کے ساتھ مجھے بھی ہلا گیا بابرؔ
وہ سانحہ جو اسے پیش آنے والا تھا

ادریس بابر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم