MOJ E SUKHAN

نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں

غزل

نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں
دن بہ دن حسن کے اعجاز نظر آتے ہیں

وہ شہید نگہ ناز نظر آتے ہیں
آج کل اور ہی انداز نظر آتے ہیں

سر جھکائے ہوئے چلتا ہوں ترے کوچہ میں
کیونکہ سر باز ہی سر باز نظر آتے ہیں

بہت اونچے نہ اڑے ہیں نہ اڑیں گے گیسو
یہ کبوتر تو گرہ باز نظر آتے ہیں

جھوٹ خود بولنا الٹا مجھے جھوٹا کہنا
سچ ہے دم بازوں کو دم باز نظر آتے ہیں

بھیج تو دی ہے غزل دیکھیے خوش ہوں کہ نہ ہوں
کچھ کھٹکتے ہوئے الفاظ نظر آتے ہیں

غمزہ و ناز و ادا مہر و وفا جور و جفا
سب کے سب خانہ بر انداز نظر آتے ہیں

لطف آئے جو شب وصل موذن سو جائے
کیونکہ وہ گوش بر آواز نظر آتے ہیں

عمر گزری ہمیں سرکار پہ مرتے مرتے
جان دیتے ہیں تو جاں باز نظر آتے ہیں

بلبلوں سے نہیں گل زار زمانہ خالی
شکر ہے یاں بھی ہم آواز نظر آتے ہیں

بد گمانی بھی محبت کا نشاں ہے پرویںؔ
غلطی ہو تو ہو ناراض نظر آتے ہیں

پروین امِ مشتاق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم