MOJ E SUKHAN

نشاط درد کے موسم میں گر نمی کم ہے

غزل

نشاط درد کے موسم میں گر نمی کم ہے
فضا کے برگ شفق پر بھی تازگی کم ہے

سراب بن کے خلاؤں میں گم نظارۂ سمت
مجھے لگا کہ خلاؤں میں روشنی کم ہے

عجیب لوگ ہیں کانٹوں پہ پھول رکھتے ہیں
یہ جانتے ہوئے ان میں مقدری کم ہے

نہ کوئی خواب نہ یادوں کا بیکراں سا ہجوم
اداس رات کے خیمے میں دل کشی کم ہے

میں اپنے آپ میں بکھرا ہوا ہوں مدت سے
اگر میں خود کو سمیٹوں تو زندگی کم ہے

کھلی چھتوں پہ دوپٹے ہوا میں اڑتے نہیں
تمہارے شہر میں کیا آسمان بھی کم ہے

پرانی سوچ کو سمجھیں تو کوئی بات بنے
جدید فکر میں احساس نغمگی کم ہے

کہاں سے لاؤ گے اے رندؔ معتبر مضمون
غزل میں جبکہ روایت کی چاشنی کم ہے

پی پی سری واستو رند

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم