MOJ E SUKHAN

نشے میں ہوں مگر آلودۂ شراب نہیں

نشے میں ہوں مگر آلودۂ شراب نہیں
خراب ہوں مگر اتنا بھی میں خراب نہیں

کہیں بھی حسن کا چہرہ تہ نقاب نہیں
یہ اپنا دیدۂ دل ہے کہ بے حجاب نہیں

وہ اک بشر ہے کوئی نور آفتاب نہیں
میں کیا کروں کہ مجھے دیکھنے کی تاب نہیں

یہ جس نے میری نگاہوں میں انگلیاں بھر دیں
تو پھر یہ کیا ہے اگر یہ ترا شباب نہیں

مرے سرور سے اندازۂ شراب نہ کر
مرا سرور با اندازۂ شراب نہیں

جگن ناتھ آزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم