MOJ E SUKHAN

نظروں سے آپ کیوں ہیں نہاں

نظروں سے آپ کیوں ہیں نہاں
آبھی جائیے آجائيے امام زمان
دین خدا ہے دشمن دیں کے حصار میں
دلوائے جلد فتح ہمیں کارزار میں
دم گھٹ رہا ہے ایٹمی گرد و غبار میں
ہر لمحہ کٹ رہا ہے فقط انتظار میں
سینے میں دل ہے غم سے نہاں
آبھی جائیے آجائيے امام زمان

نسل یزید و شمر کے پھر اٹھ رہے ہیں سر
چھایا ہوا ہے خوف دل خاص و عام پر
ہے مومنوں سے برسر پیکار اہل “شر؟”
مغموم ہیں فضائيں شریعت ہے نوحہ گر
اے مالک زمین و زماں آبھی جائيے

تر ہورہی ہے خون سے دنیائے آب و گل
ابلیس بھی ہے لوگوں کے کرتوت پر خجل
چہرے ہیں زرد ہجر کے مارے یہ مضمحل
کانوں سے اہل نار کے اب جل رہے ہیں دل
کعبہ سے اٹھ رہا ہے دھواں آبھی جائيے

نظروں سے آپ کیوں ہیں نہاں
آبھی جائیے آجائيے امام زمان​

سبطِ جعفر زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم