MOJ E SUKHAN

نظم شام ڈھلے تو

نظم

شام ڈھلے تو
میلوں پھیلی خوشبو خوشبو گھاس میں رستے

آپ بھٹکنے لگتے ہیں
زلف کھلے تو مانگ کا صندل

شوق طلب میں
آپ سلگنے لگتا ہے

شام ڈھلے تو
زلف کھلے تو

لفظوں ان رستوں پر جگنو بن کر اڑنا
راہ دکھانا

دن نکلے تو
تازہ دھوپ کی چمکیلی پوشاک پہن کر

میرے ساتھ گلی کوچوں میں
لفظو منزل منزل چلنا

ہم دنیا کو حرف و صدا کی روشن شکلیں
پھول سے تازہ

عہد اور پیماں دکھلائیں گے
دیواروں سے گلزاروں تک تنہائی کی

فصل اگی ہے
دن نکلے تو فیض رفاقت

ہم سب میں تقسیم کریں گے

اختر حسین جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم