MOJ E SUKHAN

نظم ہونے لگی

ُسرحدِ خواب پر دشتِ امکان میں
شاخِ تخیل سر سبز ہونے لگی
نظم ہونے لگی
رات کے اُس پہر جونہی سوچا تمہیں
دھیرے دھیرے سے سپنوں میں کھونے لگی
نظم ہونے لگی بے
پناہ چاہتیں جو لٹاتی رہی
جو پڑی مشکلیں، مسکراتی رہی، ضبط بونے لگی
نظم ہونے لگی
غیر کے سنگ تھے رنگ ہی رنگ تھے
دیکھ کر یہ ادا تری سب دنگ تھے
بے رُخی سے تری سرخ رنگت مری زرد ہونے لگی
، نظم ہونے لگی
خواب میں بھی جدا جس کو سمجھا نہیں
میں چلی جب کبھی اُس نے روکا نہیں
مجھ کو ٹوکا نہیں اُس نے پوچھا نہیں
ہنستے ہنستے جو اکثر میں رونے لگی
نظم ہونے لگی
سنگ دل میں بہت وہ بھی بےرحم تھا
روک لیتا مجھے!
ناؤ چاہت کی جب میں ڈبونے لگی
نظم ہونے لگی
بےوجہ سی ہنسی رقص بےنام سے
اُس کی آنکھوں کا عکس سب نشاں پیار کے
اور اُس پہ انا، ناز بھی بےسبب
بوجھ یادوں کا پل پل میں ڈھونے لگی
نظم ہونے لگی
خود بھی حیران ہوں اک محبت کہ جو
منتظر کب سے تھی ایسے لمحات کی،
اشک برسات کی ہو نہ پائی تھی جو
ایک مدت تلک، آج ہونے لگی!!!!
نظم ہونے لگی

تاجورشکیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم