MOJ E SUKHAN

نغموں کے قافلے کا میں تنہا نقیب تھا

غزل

نغموں کے قافلے کا میں تنہا نقیب تھا
یا شاخ کائنات پہ اک عندلیب تھا

اپنا کوئی رفیق نہ کوئی رقیب تھا
میں خواہشوں کی بزم میں سب کے قریب تھا

زینے پہ قصر وقت کے چڑھتا چلا گیا
میرا شکستہ حوصلہ جو خوش نصیب تھا

اس کے بدن سے لپٹی ہوئی تھی لہو کی شاخ
وہ شخص جو کہ شہر انا کا خطیب تھا

تھیں آسماں کی وسعتیں اپنی نگاہ میں
لمحات گم شدہ کا تصور عجیب تھا

گرداب حادثات میں ہم پھنس کے رہ گئے
جب ساحل مراد بہت ہی قریب تھا

لوگوں سے مل رہی تھی اسے روشنی کی بھیک
دل کے حسیں دیار میں جامیؔ غریب تھا

عبدالمتین جامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم