نقل مکانی کرتے کرتے سایہ بھی تھک جاتا ہے
چہرہ پڑھتے پڑھتے مرا رستہ بھی تھک جاتا ہے
تشنہ خواب کو زندہ رکھنا مرے بس کی بات نہیں
آنکھوں میں کچھ خواب سجا کر چہرہ بھی تھک جاتا ہے
عشق کی شدت کم ہو تو میں پیاس بجھاؤں یادوں سے
پانی پیتے پیتے مرا سایہ بھی تھک جاتا ہے
ڈوبنےلگتا ہے منظر جب آنکھ کے ساحل پر اکثر
بہتے بہتے آنکھ کا مری دریا بھی تھک جاتا ہے
یادوں کا کشکول اٹھائے ہجر سے امید لگائے
گمگشتہ چہرے کے پیچھے چہرہ بھی تھک جاتا ہے
تیلی،پھول،سمندر،سپنے کچھ ادھورے نقش رضا
کاغذ پر تصویر بنا کر بچہ بھی تھک جاتا ہے
حسن رضا