نہ جانے کس لئے میں جی رہی ہوں
غموں کا زہر ہنس کر پی رہی ہوں
عجب معیار ہے تیری طلب کا
کبھی رسوا کبھی اچھی رہی یوں
بظاہر خوش نظر آتی ہوں لیکن
دکھوں کے درمیاں میں جی رہی ہوں
نہ جانے کونسی خوبی تھی اس میں
میں دنیا میں فقط اس کی رہی ہوں
سمیٹوں کس طرح سوچوں کو اپنی
میں جب اک عمر ہی بکھری رہی ہوں
صدف !اس چار دن کی زندگی کو
حیا کی چنریوں میں سی رہی ہوں
صدف بنتِ اظہار