MOJ E SUKHAN

نیند کا رس فضا میں گھولو ہو

غزل

نیند کا رس فضا میں گھولو ہو
اے میاں کیا زبان بولو ہو

میرے حالات پر ہیں تنقیدیں
تم کبھی خود کو بھی ٹٹولو ہو

آہ فریاد نالہ و شیون
ایسے عالم میں کیسے سو لو ہو

یہ بتاؤ کہ یاد میں اس کی
تم بھی دامن کبھی بھگو لو ہو

رخ ہوا کا جدھر کو ہوتا ہے
کیوں اسی سمت تم بھی ہو لو ہو

غم کی شدت ہے موت کا ساماں
تم یہ اچھا کرو ہو رو لو ہو

تابش مہدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم