وحشتِ عشق کو صحرا میں گلابوں سے سجا
نیتِ شوق کو خواہش کے سرابوں میں گھما
اپنی بیزاری کو اِس شہر کی حد تک ہی تُو رکھ
اپنی محرومی کے بدلے میں فصیلیں نہ گرا
نفرت و بغض کے کانٹوں سے شجر اگتے نہیں
کھیتیاں پیار کی اِن مہکی بہاروں میں اگا
کون اب وصل کی راحت کا تماشا دیکھے
نہ مجھے ہجر کی لذت کے خیالوں سے جگا
یوسفِ مصر کو بکنے میں قباحت تو نہ تھی
اب خریدار بھی قیمت میں زلیخا سا تو لا
گلِ نسرین