MOJ E SUKHAN

وقت بھی اب مرا مرہم نہیں ہونے پاتا

غزل

وقت بھی اب مرا مرہم نہیں ہونے پاتا
درد کیسا ہے جو مدھم نہیں ہونے پاتا

کیفیت کوئی ملے ہم نے سنبھالی ایسے
غم کبھی غم سے بھی مدغم نہیں ہونے پاتا

میرے الفاظ کے یہ ہاتھ بھی شل ہوں جیسے
ہو رہا ہے جو وہ ماتم نہیں ہونے پاتا

دل کے دریا نے کناروں سے محبت کر لی
تیز بہتا ہے مگر کم نہیں ہونے پاتا

اتنا مل لیتا ہے از راہ تکلف ہی سہی
کوئی موسم مرا موسم نہیں ہونے پاتا

ثروت زہرا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم