MOJ E SUKHAN

وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے

وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے
رو پڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے

اس سے کب دیکھی گئی تھی میرے رخ کی مردنی
پھیر لیتا تھا وہ منہ مجھ کو دوا دیتے ہوئے

خواب بے تعبیر سی سوچیں مرے کس کام کی
سوچتا اتنا تو وہ دست عطا دیتے ہوئے

بے زبانی بخش دی خود احتسابی نے مجھے
ہونٹ سل جاتے ہیں دنیا کو گلہ دیتے ہوئے

اپنی رہ مسدود کر دے گا یہی بڑھتا ہجوم
یہ نہ سوچا ہر کسی کو راستہ دیتے ہوئے

آپ اپنے قتل میں شامل تھا میں مقتول شوق
یہ کھلا مجھ پر طلب کا خوں بہا دیتے ہوئے

وہ ہمیں جب تک نظر آتا رہا تکتے رہے
گیلی آنکھوں اکھڑے لفظوں سے دعا دیتے ہوئے

جانے کس دہشت کا سایہ اس کو مہر لب ہوا
ڈر رہا ہے وہ مجھے کھل کر صدا دیتے ہوئے

بے اماں تھا آپ لیکن معجزہ ہے یہ ریاضؔ
ہالۂ شفقت تھا اس کو آسرا دیتے ہوئے

ریاض مجید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم