MOJ E SUKHAN

وہ تمام رنگ انا کے تھے وہ امنگ ساری لہو سے تھی

وہ تمام رنگ انا کے تھے وہ امنگ ساری لہو سے تھی
وہ جو ربط ضبط گلوں سے تھا جو دعا سلام سبو سے تھی

کوئی اور بات ہی کفر تھی کوئی اور ذکر ہی شرک تھا
جو کسی سے وعدۂ دید تھا تو تمام شب ہی وضو سے تھی

نہ کسی نے زخم کی داد دی نہ کسی نے چاک رفو کیا
ملے ہم کو جتنے بھی بخیہ گر انہیں فکر اپنے رفو سے تھی

ترے مطربوں کو خدا رکھے مگر اب کہاں تری بزم میں
کوئی سر جو میرے سخن میں تھا کوئی لے جو میرے لہو سے تھی

سر کارزار کھڑے ہو شوقؔ تو یوں ہی سینہ سپر رہو
کہ وہ لوگ کون سے بچ گئے جنہیں احتیاط عدو سے تھی

رضی اختر شوق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم