MOJ E SUKHAN

وہ جیسے کوہساروں میں ہوا رستہ بناتی ہے

وہ جیسے کوہساروں میں ہوا رستہ بناتی ہے
محبت جو بناتی ہے جدا رستہ بناتی ہے

محبت ہارتی کب ہے محبت گر محبت ہو
محبت کے لیے خلقِ خدا رستہ بناتی ہے

حرا و ثور سے ہوتی ہوئی یہ لامکاں پہنچی
تم اب بھی پوچھتے ہو کیا وفا رستہ بناتی ہے

اشارے سے ہی کر دیتی ہے دو ٹکڑوں میں قلزم کو
ہمیں معلوم ہے کیسے دعا رستہ بناتی ہے

صغیر اکثر خیالوں میں مدینے جا نکلتے ہیں
ہمارے واسطے خاکِ شفا رستہ بناتی ہے

(صغیر احمد صغیر)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم