MOJ E SUKHAN

وہ دل کہاں ہے اہل نظر دل کہیں جسے

وہ دل کہاں ہے اہل نظر دل کہیں جسے
یعنی نیاز عشق کے قابل کہیں جسے

زنجیر غم ہے خود مری خواہش کا سلسلہ
یا زلف خم بہ خم کہ سلاسل کہیں جسے

ملتا ہے مشکلوں سے کسی کے حضور کا
وہ ایک لحظہ زیست کا حاصل کہیں جسے

کشتی شکستگان یم اضطراب کو
تیرا ہی ایک نام ہے ساحل کہیں جسے

پاتی نہیں فروغ بجز سوز و ساز عشق
شمع حیات در خور محفل کہیں جسے

اس دل کو شاد رکھنے کی خدمت ملی مجھے
غم ہائے روزگار کی منزل کہیں جسے

اس دور قدر دان سخن میں یہ اتفاق
شاعر وہی ہے رونق محفل کہیں جسے

محرومؔ چاکِ سینہ ٔ ہر گل میں ہے وہ چیز
تاثیر نالہ ہائے عنادل کہیں جسے

تلوک چند محروم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم