MOJ E SUKHAN

وہی روایت گزیدہ دانش وہی حکایت کتاب والی

وہی روایت گزیدہ دانش وہی حکایت کتاب والی
رہی ہیں بس زیر درس تیرے کتابیں پچھلے نصاب والی

میں اپنے لفظوں کو اپنے فن کے لہو سے سرسبز کرنے والا
مرا شعور اجتہاد والا مری نظر احتساب والی

چلو ذرا دوستوں سے مل لیں کسے خبر اس کی پھر کب آئے
یہ صبح گلگوں خیال والی یہ مشکبو شام خواب والی

مثال مجھ گم شدہ نفس کی ہے ایسی ہی جیسے کوئی بچہ
پرانے بستے میں رکھ کے پھر بھول جائے کاپی حساب والی

مرے لیے تو ترا علاقہ ہے شہر ممنوعہ جیسا لیکن
کھنڈر کھنڈر زندگی کو میں نے گلی دکھا دی گلاب والی

مرے یہ افکار تیرے فکر و نظر کی تطہیر ہیں مری جاں
میں حکمتیں تجھ کو دے رہا ہوں وہی خدا کی کتاب والی

فضاؔ کہ درویش حرف ہے دیکھنا ذرا اس کا بانکپن تم
قمیص خورشید بخت والی کلاہ گردوں رکاب والی

فضا ابنِ فیضی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم