MOJ E SUKHAN

پابندیوں سے اپنی نکلتے وہ پا نہ تھے

پابندیوں سے اپنی نکلتے وہ پا نہ تھے
سب راستے کھلے تھے مگر ہم پہ وا نہ تھے

یہ اور بات شوق سے ہم کو سنا گیا
پھر بھی وہی سنایا سنا اک فسانہ تھے

اک آگ سائبان تھا سر پر تنا ہوا
پل پل زمیں سرکتی تھی اور ہم روانہ تھے

دریا میں رہ کے کوئی نہ بھیگے تو کس طرح
ہم بے نیاز تیری طرح اے خدا نہ تھے

ہرگز گلہ نہیں ہے کہ تو مہرباں نہ تھا
کب ہم بھی اپنے آپ سے بے حد خفا نہ تھے

کیوں صبر آشنا نہ ہوا نامراد دل
تیرے کرم کے ہاتھ تو یوں بے عطا نہ تھے

وہ اور ہم سے پوچھے کہ بلقیسؔ کچھ تو کہہ
کم بخت ہم کہ ہوش ہی اپنے بجا نہ تھے

بلقیس ظفیر الحسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم