MOJ E SUKHAN

پرانے محلے کا سنسان آنگن

غزل

پرانے محلے کا سنسان آنگن
مجھے پا کے تھا کتنا حیران آنگن

یہ تہذیب کو پاؤں چلنا سکھائیں
سمیٹے ہیں صدیوں کے امکان آنگن

وہ دیوار سے جھانکتی شوخ آنکھیں
وہ پہرے پہ بوڑھا نگہبان آنگن

کوئی جست میں پار کرتا ہے چوکھٹ
کسی کے لئے اک بیابان آنگن

کسی کے لئے پایۂ تخت ہے یہ
کسی کے لئے ایک زندان آنگن

سنا رفتہ رفتہ کھنڈر ہو رہے ہیں
وہ آباد گلیاں وہ گنجان آنگن

کدھر جائیں تہذیب کی ہجرتوں میں
یہ بوڑھے درخت اور یہ ویران آنگن

عشرت آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم