MOJ E SUKHAN

پرتوِ عکاس تھا وہ ، میں نہ تھا

پرتوِ عکاس تھا وہ ، میں نہ تھا
آئینوں کو راس تھا وہ ، میں نہ تھا

میری پرچھائیں جسے سمجھے تھے لوگ
کوئی میرے پاس تھا ، وہ میں نہ تھا

جو سپردِ خاک کر آئے ہو تم
ہڈیاں اور ماس تھا ، وہ میں نہ تھا

اہلِ دل کو تشنگئ غم کہاں
اک مسلسل پیاس تھا وہ ، میں نہ تھا

کہکشاں پر جس کے نقشِ پا ملے
وہ مرا احساس تھا ، وہ میں نہ تھا

کھو گیا میں اپنے قصّے میں کہیں
زینتِ قرطاس تھا وہ ، میں نہ تھا

پا برہنہ زندگی کی راہ پر
صاحبِ افراس تھا وہ ، میں نہ تھا

چین سے مٹّی پہ سوتا ہوں امؔـر
راندۂ افلاس تھا وہ ، میں نہ

امر روحانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم