پرتوِ عکاس تھا وہ ، میں نہ تھا
آئینوں کو راس تھا وہ ، میں نہ تھا
میری پرچھائیں جسے سمجھے تھے لوگ
کوئی میرے پاس تھا ، وہ میں نہ تھا
جو سپردِ خاک کر آئے ہو تم
ہڈیاں اور ماس تھا ، وہ میں نہ تھا
اہلِ دل کو تشنگئ غم کہاں
اک مسلسل پیاس تھا وہ ، میں نہ تھا
کہکشاں پر جس کے نقشِ پا ملے
وہ مرا احساس تھا ، وہ میں نہ تھا
کھو گیا میں اپنے قصّے میں کہیں
زینتِ قرطاس تھا وہ ، میں نہ تھا
پا برہنہ زندگی کی راہ پر
صاحبِ افراس تھا وہ ، میں نہ تھا
چین سے مٹّی پہ سوتا ہوں امؔـر
راندۂ افلاس تھا وہ ، میں نہ
امر روحانی