MOJ E SUKHAN

پنجۂ زیست میں پھنسا پنچھی

غزل

پنجۂ زیست میں پھنسا پنچھی
پھڑپھڑاتے ہوئے مرا پنچھی

پر نکلتے ہی اک اڑان بھری
اور پھر خواب ہو گیا پنچھی

ناتواں ہے ابھی وجود ترا
پھر مخالف بھی ہے ہوا پنچھی

پھر پلٹ کر کبھی نہیں آیا
قید سے ہو گیا رہا پنچھی

جا دعائیں ہیں تیرے ساتھ مری
اب محافظ ترا خدا پنچھی

جانے کب جسم کا قفس ٹوٹے
اور اڑ جائے روح کا پنچھی

اقبال طارق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم