MOJ E SUKHAN

پہلو میں اب تو کوئی غمزہ نہیں مچلتا

پہلو میں اب تو کوئی غمزہ نہیں مچلتا
برسوں سے اس نگر میں سورج نہیں نکلتا

شبنم بھی اب چمن میں آنسو نہیں بہاتی
کیوں میری چشمِ نم کا عالم نہیں بدلتا

اس دن کو میں نے خارج سمجھا ہے زندگی سے
جس دن تماہرے غم میں سینہ نہیں پگھلتا

کیا ڈھونڈتے ہو میرے دامن کی وسعتوں میں
سوکھا ہوا سمندر گوہر نہیں اگلتا

یہ حوصلہ ہے میرا پیروں پہ میں کھڑا ہوں
ورنہ اکھڑنے والا پاؤں نہیں سنبھلتا

مجبور ہوکے تیری محفل میں آ گیا ہوں
تیرے بغیر دل کا بالک نہیں بہلتا

مجھ کو کہیں نہ ڈس لیں شب دیس کے اندھیرے
اس خوف سے میں اکثر گھر سے نہیں نکلتا

مشتاق خلیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم