MOJ E SUKHAN

پی کے ہم جام سکوں حد سے گزر تو جائیں

غزل

پی کے ہم جام سکوں حد سے گزر تو جائیں
ان کو پانا کوئی مشکل نہیں مر تو جائیں

یہ فضائے سحر و شام نکھر جائے گی
ان کی زلفیں مرے ہاتھوں سے سنور تو جائیں

چھیڑتے رہتے ہیں حالات کے نشتر ہر وقت
ورنہ زخموں کے دہن آپ ہی بھر تو جائیں

نام تک شہر کا اپنے ہمیں اب یاد نہیں
کارواں راہ میں ہم چھوڑ کے گھر تو جائیں

کون کہتا ہے کہ ہوتی نہیں اشکوں کی زباں
لوگ اس بزم میں با دیدۂ تر تو جائیں

دور رہ کر وہ مجھے یاد بھی کیوں آتے ہیں
پھول شاخوں سے جدا ہو کے بکھر تو جائیں

خلد دل خلد نظر دور نہیں ہے شاداںؔ
ہاتھ اپنے کبھی تا پردۂ در تو جائیں

شاداں بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم