MOJ E SUKHAN

چل کہیں دور زمانے سے ادھر ملتے ہیں

غزل

چل کہیں دور زمانے سے ادھر ملتے ہیں
جسم کے آئنہ خانے سے ادھر ملتے ہیں

خلد آثار ہے گویا یہ ترا شہر خیال
کیسے رنگین فسانے سے ادھر ملتے ہیں

دل دفینے کو کبھی کھوج نوادر کتنے
وقت کی گرد ہٹانے سے ادھر ملتے ہیں

یک بیک دھندلے ہوئے جاتے ہیں سارے منظر
اور پھر تیر نشانے سے ادھر ملتے ہیں

اک جزیرہ ہے کہ کھوئے ہوئے حیرت زدگاں
صرف آواز لگانے سے ادھر ملتے ہیں

بشریٰ مسعود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم