MOJ E SUKHAN

چوٹ نئی ہے لیکن زخم پرانا ہے

غزل

چوٹ نئی ہے لیکن زخم پرانا ہے
یہ چہرہ کتنا جانا پہچانا ہے

ساری بستی چپ کی دھند میں ڈوبی ہے
جس نے لب کھولے ہیں وہ دیوانا ہے

آؤ اس سقراط کا استقبال کریں
جس نے زہر کے گھونٹ کو امرت جانا ہے

اک اک کر کے سب پنچھی دم توڑ گئے
بھری بہار میں بھی گلشن ویرانہ ہے

اپنا پڑاؤ دشت وفا بے آب و گیاہ
تم کو تو دو چار قدم ہی جانا ہے

کل تک چاہت کے آنچل میں لپٹا تھا
آج وہ لمحہ خواب ہے یا افسانا ہے

پروین فنا سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم