MOJ E SUKHAN

چہرے پہ جو تیرے نظر کر گیا

غزل

چہرے پہ جو تیرے نظر کر گیا
جان سے وہ اپنی گزر کر گیا

جس کی طرف سے تری آنکھیں پھریں
اشک کے مانند سفر کر گیا

منہ کو دیکھا اپنے وہ خورشید رو
شام غریباں کو سحر کر گیا

اس کو نکالے کوئی کس طور سے
تیر مژہ سینے میں گھر کر گیا

رخصت موعود تھی ہچکی نہ تھی
چلتے ہوئے دم یہ خبر کر گیا

جو کوئی بیٹھا ترے کوچے میں آ
اٹھ نہ سکا یارو وہ مر کر گیا

جس کی نظر عشقؔ کے اوپر پڑی
چشم کے تئیں اپنی وہ تر کر گیا

خواجہ رکن الدین عشق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم